مردہ اشخاص کے وارثان کوزمین منتقلی میں‌دانستہ تاخیرکئےجانے کا انکشاف، وراثت انتقال میں‌افسران تاخیری حربے استعمال کرتےہیں،عوام الناس ذہنی عذاب میں‌مبتلا،انتقالات کابروقت اندراج ریونیو افسران کی ذمہ داری،عمل درآمد نہ کرنے پرسینئر ممبرنےکارروائی کا عندیہ دیدیا

لاہور(رپورٹ : ماجد بٹ سے)صوبائی دارالحکومت لاہو ر میں مرے ہوئے شخص کے وارثان کے نام زمین منتقلی کے عمل کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کرنے اور وراثت انتقال کے اندراج کے دوران تاخیری حربے استعمال کرنے کا انکشاف,
غیر قانونی پریکٹس سے عوام الناس کو شدید مشکلات کا سامنا ، بورڈ آف ریونیو کی جانب سے وراثت انتقالات کے بروقت اندراج کی ذمہ داری ریونیو افسر پر عائد،ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے پر سخت قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا گیا

تفصیلات کے مطابق چند سال قبل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے عوام الناس کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر بورڈ آف ریو نیو کے افسران پر مشتمل ٹیم نے انسپکشن ٹیم کو نے ریونیو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد انکشاف کیا تھا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میںتمام ریونیو افسران جان بوجھ کر وراثت انتقال کے اندراج کے عمل کو سست روی کا شکاربنادیتے ہیں اور مختلف تاخیری حربوں سے مرے ہوئے شخص کے وارثان کے نام جائیداد منتقلی کا عمل تب تک مکمل نہیں کیا جاتا جب تک ان کے مذموم مقاصد پورے نہ کئے جائیں اوراس حوالے سے بورڈ آف ریونیو کی جانب سے تمام ریونیو افسران کو سختی سے ہدایات جاری کی گئی تھی کہ وہ اپنی قانونگوئی میں ہونے والی اموات کے حوالے سے باخبر رہیں گے اور متعلقہ پٹواری یونین کونسل میں موجود اندراج اموات رجسٹر کی روزانہ کی بنیاد پرجانچ پڑتال کریں گے جس کا مقصد وراثت انتقال کے عمل کو شفاف طریقے سے جلد ازجلد عملدرآمد کروانا ہے اوروراثت انتقال کا بروقت اندراج کرنے کی ذمہ داری بھی ریونیو افسر پر عائد کی گئی تھی لیکن تاحال مرئے ہوئے شخص کے وارثان کے نام وراثتی زمین کی منتقلی کے عمل کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے جس کے باعث عوام الناس کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

ریونیو افسران کے دفاتر روزانہ کی بنیاد پر سائلین کا ر ش دیکھنے میں آرہا ہے جو کئی ماہ سے اپنی وراثتی زمین کی تقسیم اور منتقلی کے لئے چکر لگا رہے ہیں ،ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ چند سال پہلے بورڈ آف ریونیو کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئیں تھیں کہ فوت شدہ شخص کے وارثان میں وراثتی تقسیم کے عمل میں تاخیر نہ برتی جائے اور اس کو طے شدہ ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے ،جس پر چند مہینے عمل درآمد کیا گیا لیکن پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ ریونیو افسران نے مالی فوائد کے لئے وارثان کو تنگ کرنا شروع کردیا ہے تاکہ وہ تنگ آکر اپنے کام کو بروقت مکمل کرنے کے لئے ان کو پیسے کی پیش کریں جس میں سے سائلین کی اکثریت بھاری رشوت دے کر اپنے کام کو پایہ تکمل تک پہنچا رہی ہے

حکومت پنجاب نے لوگوں کو پٹوار کلچر سے تو نجات دلادی ہے لیکن پٹوار کلچر سے منسلک کاموں میں ابھی تک رشوت وصولی کے نت نئے طریقہ کار کے تحت رشوت وصولی کا بازار گرم کیا جارہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں