پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ومحکمہ منصوبہ بندی ملی بھگت، حکومت کو کروڑوں کا ٹیکہ، رجسٹریوں کی کمپیوٹرائزیشن کا لنک ڈالنے کی بجائے نئی ویب سائٹ کے لئے 12ملین منظور کروا لئے، افسران لا علم

لاہور(ظہیر الحق/میڈیا92نیوز)پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی آپسی ملی بھگت سے پنجاب کو حکومت کو کروڑوں کا ٹیکہ لگا دیا گیا ،پہلے سے جاری منصوبے کو نئے نام سے شروع کرکے دوبارہ کروڑوں روپے کے فنڈز پاس کروا لئے گئے
لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم کی ویب سائٹ میں رجسٹریوں کی کمپیوٹرائزیشن کے لئے رجسٹریشن آف ڈیڈ کا لنک ڈالنے کی بجائے نئی ویب سائٹ کے لئے 12ملین منظور کروا لئے گئے
محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اپنے بنیادی فرائض چیک اینڈ بیلنس اور کسی منصوبے میں ڈپلکیسی روکنے میں ناکام ہوگیا،تفصیلات کے مطابق محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور پنجاب لینڈ ریکارڈ افسرا کی ملی بھگت سے پہلے سے فنڈز لینے کے باوجود رجسٹریشن آف ڈیڈ کا منصوبہ نئے نام سے منظور کروا لیا گیا ہے جس میں واضح طور پر پنجاب لینڈ ریکاراتھارٹی اورمحکمہ منصوبہ بندی وترقیات کی ملی بھگت سامنے آئی ہے اس منصوبے کے لئے دس کروڑ بھی جاری کروا لئے گئے ہیں

پنجاب حکومت کی جانب سے زمینی معاملات میںفراڈکے عنصر کوختم کرنے اور لوگوںکو سہولیات دینے کے لئے لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم شروع کیا گیا تھا تاکہ اراضی کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جاسکے جس پر فردو ں کی کمپیوٹرائزیشن کی گئی تھی جس کے لئے پچھلے سال کے آخر میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی بنائی گئی ہے تاکہ وہ سارے معاملات کی دیکھ بھال کرے، اب پنجاب لینڈریکارڈ اتھارٹی کی جانب سے ایک نیا منصوبہ سامنے آیا ہے جس کو رجسٹریشن آف ڈیڈ کہتے ہیں جس میں حیران کن بات یہ ہے کہ ا س میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی آپسی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو کروڑوں کا ٹیکہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ اس نام کا منصوبہ پہلے ہی لینڈ ریکارڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم کا مرکزی منصوبہ تھاجو اس کے اندر موجود تھا اور اس کے لئے بھی فنڈز لئے گئے تھے لیکن پہلے سے فنڈز لینے کے باوجود ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا اور اس کے لئے فنڈز بھی جاری کروا لئے

رجسٹریشن آف ڈیڈ کے نام سے مالی سال 2016-17میں 312ملین 31کروڑ روپے کا منصوبہ لایا گیا تھا جسکی محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے منظوری دی، جس کے مطابق لاہور میں جو رجسٹریاں ہیں ان کو کمپیوٹرئزڈ کیا جانا ہے لیکن اس میں حیران کن بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ پہلے ہی لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کا جو پی سی ون چل رہا تھا اس 2015 میں چوتھی بار جب ترمیم کی گئی تو اس میں اسی منصوبے کا اضافہ کیا گیا تھا اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے اس کے سکوپ کو بڑھایا گیا تھا ، اس کے علاوہ رجسٹریشن آف ڈیڈ کے لئے سامان خریدنے کے علاوہ آئی ٹی کے آلات بھی خریدے گئے تھے اور کے لئے 60نئے لوگ بھی بھرتی کئے گئے تھے تاکہ اس منصوبہ کو چلایا جاسکے

اب دو سال بعد312ملین کا ایک نیامنصوبہ سامنے آیا ہے جس میں 79ملین صرف اس مقصد کے لئے رکھے گئے ہیں کہ اس کے لئے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم بنایا جائے گا جبکہ سی ایم ایس(کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم) منصوبہ بھی پہلے سے ہی چل رہا ہے ،ان 312ملین میں سے12ملین صرف ویب سائٹ بنانے کے لئے رکھے گئے ہیں ،جبکہ ایل آر ایم ایس کی مرکزی ویب سائٹ جو پہلے سے چل رہی ہے اس میں سے صرف ایک لنک ایڈ کرنے سے رجسٹریشن آف ڈیڈ کا وہ تما م ریکارڈ ادھر بھی رکھا جاسکتا تھا جس کے لئے نئے سرے سے 12ملین رکھے گئے ہیں

سب سے زیادہ افسوس ناک کردار محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کا ہے ،یہ اس کا کام ہے کہ اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھے ،اس میں ڈپلیکیسی نہ ہو،لیکن اس کے باوجود محکمہ بلدیات نے ناصرف یہ منصوبہ منظور کروا لیا ہے بلکہ اس کے لئے دس کروڑ روپے بھی جاری کئے جاچکے ہیں ،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ رجسٹریشن آف ڈیڈ کا منصوبے سے شہریوں کی جائیدادوں سے فراڈ اور دھوکہ دہی جیسے ایک اور عنصر کا خاتمہ ہو جائے گا،سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والی باتیں بے بنیاد ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں