ریکارڈ درستگی ،وراثتی حقوق کی تقسیم، لینڈ ریونیو ایکٹ کی سنیگن خلاف ورزی معمول، بیشتر تحصیلوں میں بہنوں کوجائیداد سے محرومی کی شکایات منظرعام پر، ایس ایم بی آر کا نوٹس

لاہور(عمر خالد/میڈیا92نیوز) ریکارڈ میں درستگی ،وراثتی حقوق کی منصفانہ تقسیم ،لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعہ 135Aاور 142Aکی کھلم کھلا خلاف ورزی معمول بن گئی پنجاب کی متعدد تحصیلوں میں بہنوں کو باپ کی جائیداد سے محروم رکھنے کی شکایات منظرعام پر آگئی۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے ریکارڈکی جانچ پڑتال کا مطالبہ کر دیا

تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر کی تحصےلوں مےں اراضی کی وراثت اور منصفانہ تقسےم نہ ہونے کے حوالے سے بہنوں کو باپ کی جائےداد سے محروم رکھا جارہا ہے اور آرٹےکل 135A,142Aپر عملدرآمد کرنے کی بجائے محکمہ مال کے پٹوارےوں نے کھلم کھلا خلاف ورزی کرنا معمول بنا کر اپنے ذاتی مفادات کو پورا کیا جارہا ہے پنجاب کی متعدد تحصیلوں میں وراثتی حصہ میں حقدار بہنوں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھنے کی شکاےات منظر عام پر آچکی ہیں۔صوبے کی تمام تحصےلوں کے اسسٹنٹ کمشنروں اور تحصےل دار بھی لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعہ 142Aاور135Aکی عملی طور پر نفاذ میں ناکام ہوچکے ہیں

حالانکہ گزشتہ سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ندیم اشرف نے اپنے تحریری احکامات جاری کرتے ہوئے گزشتہ چھ ماہ کے دوران درج کیے جانے والے وراثتی انتقالات اور ان کی شفاف طرےقے سے تقسےم کے عمل کو مکمل کرتے ہوئے پانچ روز کے اندر اندر بورڈ آفس کو رپورٹ بجھوانے کا پابند کیا تھا لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس پرعملدرآمد نہ ہوسکا اور نہ ہی اس کوتاہی میں ملوث اسسٹنٹ کمشنروں سمےت تحصےلداروں کے خلاف پےڈا اےکٹ کے تحت کاروائی عمل مےں لائی جاسکی

ذرائع کے مطابق محکمہ مال کے پٹوارےوں اور دےگر رےونےو افسران کی ملی بھگت سے وراثتی انتقالات کے دوران بہنوں کے نام اراضی منقتل کرنے کی بجائے ان سے بےان حلفی تحرےر کروا لےا جاتا ہے اور اس فراڈ سے بےٹےوں کو باپ کی جائےداد سے محروم رکھ دےا جارہا ہے اگر سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے احکامات پر عملدرآمد کیا جاتا تو بیٹیاں بھی اپنے باپ کی وراثتی حصہ دار کی مکمل طور پر مالک ہوتیں بلکہ وراثتی انتقال کے دوران محکمہ مال کے رےکارڈ مےں ان کا بھی مکمل اندراج ہو تا اور ان کو بھی مکمل حق مل جاتا

ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ریونیو افسران نے اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرنے کے لیے جان بوجھ کر وراثتی حقوق کی منصفانہ تقسیم کو التوا میں ڈال رکھا ہے جس میں پنجاب کی متعدد تحصیلوں کے ریونیو افسران شامل ہیں اگر باریک بینی سے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے تو نہ صرف بہت سے ریونیو افسران منظر عام پر آجائینگے بلکہ ایسے کئی کیسز بھی سامنے آئیں گے جس میں باپ کی جائیداد میں بیٹیوں کو جان بوجھ کر وراثتی حصہ سے محروم رکھا جارہا ہے

ذرائع نے مزید بتایا کہ دو سال قبل اسی طرح کی کوتاہی برتنے پر پر ڈی جی خا ن مےں تعےنات تحصےلدار غلام مصطفی،ساہےوال مےں تعےنات رانا ےوسف اور اٹک مےں تعےنات راجہ حمےد اختر کو فوری طور معطل کر دیا گیا تھا۔اگر یہ روایت قائم رہتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ بورڈ آف ریونیو کے ترجمان نے کہا ہے کہ آرٹےکل 135A,145Aپر عمل درآمد نہ کرنے والے افسروں کو کسی صورت معاف نہےں کےا جائے گا ،اور صوبے کی تمام تحصےلوں مےں رےکارڈ کی جانچ پڑتال کا عمل جاری رہے گا ۔بےٹےوں کو باپ کی جائےداد سے کسی صورت محروم نہےں رکھا جائے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں