بلاک چین ٹیکنالوجی اور پاکستان 

 
تحریر: سید علی عمران

ایجاد انسان کی صفت میںشامل ہے کیونکہ یہ انسان ہی ہے کہ جسے الہ تعالی نے بے پناہ صلاحیتوں کا مالک بنایا۔ پہیہ کی ایجاد سے لے کر کائینات تسخیر کرنے میں مگن یہ انسان میعار زندگی بہتر بنانے کے لیے طرح طرح کی ایجادات میں مصروف ہے۔ کبھی یہ ایجاد جنگ و جدل میں جانوں کے ضیائع کے لیے استعمال ہوتی ہے تو کبھی اسی جان کو بچانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ کمپیوٹر کے ایجاد ہوتے ہی بہت سارے ایسے مشکل کام جو دنوں میں ختم ہوتے تھے اب محظ منٹوں یا سکینڈوں میں ہونے لگے ہیں۔ ایسے میں انٹرنیٹ نے تو دنیا کو سکیڑ کر رکھ دیا اور رابطوں میں تیزی سے گلوبلائزیشن کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ رابطوں میں تیزی کی وجہ سے دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب برپا ہو گیا اور اب ہم ڈیجیٹل ایرا یا ڈیجیٹل دور سے گزر رہیں ہیں جہاں کاروبار زندگی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ساتھ اب کمپیوٹر اور سمارٹ فونز کے صرف ایک کلک پر میسر ہے۔ لگتا یہ ہے کہ اب روزمرہ زندگی میں بنی نوع انسان کو اپنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے نہ ڈاکٹر کی ضرورت ہو گی نہ ہی کاروباری ٹرانزیکشنز کے لیے بینکوں اور پیپر کرنسی کی۔ حال ہی میں فنانشل ورلڈ یا کاروباری دنیا میں ایک نئی کرنسی کا چرچہ عام ہوا ہے اور وہ ہے بٹ کوائین یا کرپٹوکرنسی جس کی ماہیت صرف ڈیجیٹل ہے۔ ہر ایجاد کے منفی اور مثبت پہلو ہوتے ہیں۔ اس ایجاد کا مثبت پہلو اس کے پیچھے چلتا ایک ڈیجیٹل نظام ہے جو بلاک چین (Block Chain) کہلاتا ہے۔ دنیا میں ہونے والی اب ہر ٹرانزیکشن بہت جلد اس ٹیکنالوجی پر منتقل ہوجائے گی جبکہ اس خطے بالخصوص پاکستان پر دراصل چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے اور سلک روٹ پراجیکٹ کی وجہ سے بلاک چین ٹیکنالوجی کی یلغار متوقع ہے تو ہمیں اس نئی جہد کو سمجھنے میں بھی جلدی کرنی چاہیے۔

بلاک چین کیا ہے اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ موجودہ دنیا اس نظام کو کس حد تک قبول کر چکی ہے تبہی ہم اس ٹیکنالوجی کی طرف وثوق کے ساتھ رجوع کر سکیں گے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں کرپٹو کرنسی غیر قانونی ہے مگر اس کے پیچھے بلاک چین کے نظام کو تمام ترقی پسند ممالک سمجھنے اور استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔بلاک چین ٹیکنالوجی کو استعمال میں لانے کے لیے جاپان، امریکہ، برطانیہ، یورپ، متحدہ عرب امارات، بھارت، روس سمیت چین بھی برسرپیکار ہے۔ چین وہ ملک ہے جس کے ساتھ سی پیک کے اہم رکن ہونے کی وجہ سے ہماری شراکت داری دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ یعنی مستقبل قریب میں پاکستانی بینکار و کاروباری افراد کو فنانشل ٹرانزیکشنز اور کانٹریکٹس کے لیے اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ راہداری کی وجہ سے چین سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی پاکستان کا رخ کر رہے ہوں گے۔ حال ہی میں پاکستان کے عالمی اقتصادی روابط اس بات کی دلیل دیتے ہیں کہ پاکستان میں گلوبلائیزیشن کا عمل شدت سے شروع ہو چکا ہے جو ہمیں ڈیجیٹل دور کی طرف جانے پر مجبور کر رہا ہے۔ اس مجبوری کو ہمیں مثبت طور پر لینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک موقع ہے کہ جس سے پاکستان میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل شروع ہو گا اور غیر دستاویزی مساوی معیشت کو قابو میں کیا جا سکے گا۔

جاپان، امریکہ و برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کرپٹو کرنسی کو محدود پیمانے استعمال کر رہے ہیں اور اس نظام کی ترویج میں بھی مصروف بھی ہیں۔ اگر ہم متحدہ عرب امارات کی بات کریں تو دبئی ایک ایسا شہر ہے جو ہر طرح کی جدت کو اپنانے کے لیے سرفہرست رہتا ہے۔یہاں تک کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا مصنوعی ذہانت کے شعبہ کے لیے یہاں ایک الگ سے وزارت بھی قائم کر دی گئی ہے۔ دبئی کی حکومت اب ایک نیا قدم اٹھانے والی ہے اور وہ ہے بلاک چین کی مدد سے کام کرنے والی پہلی حکومت کی تشکیل۔ دبئی کا ارادہ ہے کہ 2020 تک تمام ویزہ درخواستیں، بل کی ادائیگیاں اور لائیسینس کی تجدید کے لیے بلاک چین کو استعمال کیا جائے گا۔یہ سالانہ 100 ملین سے زائد کی دستاویزات بنتی ہیں جبکہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جائے تو انسانوں کا اندازا 25.1 ملین گھنٹوں کا کام بچے گا جسکی وجہ سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔ یہی نہیں بلکہ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے بھی جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے بلاک چین سے چلنے والے نظام کو استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اس طرح مالیاتی سودے محفوظ بنانے، ریکارڈ مرتب کرنے اور گھروں کے مالکان اور مکینوں کو یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی میں آسانی ہوگی۔ دبئی میں بٹ کوائن کے ذریعے خریدوفروخت محدود سطح پر جاری ہے جبکہ دبئی اپنی خود کی کرپٹوکرنسی ایم کیش EM-Cash جاری کر چکا ہے۔

ون بیلٹ ون روڈ کا سب سے اہم رکن روس ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق روس میں بھی بلاک چین ٹیکنالوجی پر کام کیا جا رہا ہے۔ روس میں سب سے بڑا قرضہ فراہم کرنے والے بینک، سبربینک نے ایک لیب کے آغاز کا اعلان کیا ہے جو اس منصوبے پر کام کرے گی جس میں کٹنگ ایج ٹیسٹنگ کی جائے گی۔ روسی بینکنگ کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ لیب بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی سلوشنزSolutions تیار کرنے کے لئےکام کرے گی اور مختلف مصنوعات کے پروٹوٹائپ بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی ابتدائی طور پر بینکوں کی طرف سے شکوک و شبہات کے ساتھ دیکھی جاتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں ڈرامائی طور پر بدل گئی ہیں۔ بلاک چین ٹیکنالوجی سے کلیرنگ اور سیٹلمنٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، جو سرحدوں کے پار کی ادائگیوں کو تیز رفتار، سستی اور موثر بنانے میں نمایاں طور پر مدد فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ اس نظام سے کسٹمر کی شناخت کے نظام کو بھی جدید بنانے میں مدد ملے گی جسے بہت سے روسی بینکوں نے تسلیم بھی کیا ہے۔

سلک روٹ ورلڈ آرڈر کے بانی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے موجد چین میں بٹ کوائن کو قانونی حثیت حاصل نہیں ہے۔مگر چین وہ ملک ہے جو کرپٹوکرنسی اور اس کے پیچھے موجود بلاک چین کے نظام کو عملی شکل دینے میں ہر ممکن کوششوں میں مصروف ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق چین شاید وہ پہلا ملک ہو جو ڈیجیٹل کرنسی کا مرکزی بینک(Central Bank of Digital Currency) قائم کرے گا۔اس کے علاوہ چین روزمرہ خریدوفروخت اور لاجیسٹک انڈسٹریز میں بلاک چین کو بڑے پیمانے پر متعارف کروائے گا۔ بلاک چین کے نظام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین نے اس ٹیکنالوجی کو اپنے تیرویں پانچ سالہ منصوبے میں شامل کیا ہے اور مختلف تجربے کر کہ اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ اس نظام کو بہت جلد عملی شکل میں لاگو کیا جا سکے۔ سلک روٹ ورلڈ آرڈر کی کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب ڈالر میں لین دین کم سے کم ہو اور اس لیے چین چاہتا ہے کہ بین الاقوامی لین دین چینی ڈیجیٹل کرنسی میں ہو جس میں کوئی تیسرا شریک کار نہ ہو۔ اس کے علاوہ ون بیلٹ ون روڈ کی تکمیل سے ٹرانزیکشنز بہت زیادہ ہوں گی جبکہ بلاک چین ٹیکنالوجی کی وجہ سے کاغذات کا استعمال بہت کم ہو جائے گا جس کی وجہ سے رپورٹنگ اور ریکارڈ کی درستگی و حفاظت، ٹرانزیکشینز کو ٹرانسپیرنٹ رکھیں گی۔

خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کے بارے میں بات چیت شروع ہو چکی ہے۔ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمینٹ سائینسیز کے شعبہ ٹریژری کے سربراہ، چارٹرڈ اکاونٹنٹ اور سیپ پروفیشنل جناب محمد عمران صاحب نے اس کا بیڑا اٹھایا اور اس ضمن میں پہلی باقاعدہ تقریب منعقد کی جس میں شعبہ فنانس سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو مدعو کیا گیا اور شرکا کار میں یاداشتی اسناد بھی تقسیم کی گئیں ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران صاحب نے بلاک چین نظام کی اہمیت اور طریقہ کار کو باخوبی بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بٹ کوائن کا پہلا بلاک چین 3 جنوری2009 کو مائن یعنی متعارف کروایا گیا۔ اس وقت مارکیٹ میں 1000 سے زائدمختلف طرح کی ڈیجیٹل کرنسیاں ہیں جن کی کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری اربوں ڈالر ہے جبکہ ان میں بٹ کوائن سب سے نمایاں کرنسی ہے ۔بٹکوائن ادائیگیوں کے سسٹم کو مکمل ڈیجیٹل کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی کے طور پر سامنے آیا۔ یہ سب سے پہلا بغیر کسی مرکزی کنٹرول کے ایک جگہ سے دوسری جگہ ادائیگی کا نیٹ ورک ہے جو بغیر کسی مرکزی اتھارٹی و ادارے کے صرف اس کے استعمال کنندگان کی طرف سے چلایا جاتا ہے۔

انہوں نے اس نظام کے طریقے کار کے بارے میں بتایا کہ ڈیجیٹل یا کرپٹو کرنسی کے پیچھے بلاک چین ٹیکنالوجی کار فرما ہے۔ بلاک چین بنیادی طور پر ایک ایسا روزنامچہ ہے جہاں نیٹ ورک میں تمام شرکت کار اپنی ٹرانزیکشنز بٹکوائن نیٹ ورک پر رجسٹر کررہے ہوتے ہیں۔ بلاک چین بلکل ڈیٹا بیس کی طرح برتاو ¿ کرتا ہے، یہ ایسی جگہ ہے جہاں نیٹ ورک کے تمام شریک کار اپنا ڈیٹا نیم عوامی دراز کنٹینر جس کو بلاک کہتے ہیں میں سٹور کرتے ہیں۔ بلاک چین میں رکھنے سے پہلے ہر بلاک کی تصدیق شریک کاروں کی طرف سے کی جاتی ہے۔ لاکھوں مائنرز کی طرف سے نیٹ ورک محفوظ کیا جاتا ہے جو انٹرنل ٹرانزیکشن کی توثیق اور تصدیق کرتے ہیں۔ بلاک چین ایک نیا تنظیمی تصور ہے جو انٹرنیٹ کے اپنے پروٹوکول کے ساتھ تیکنیکی درجے اور بہت ساری اپلیکیشنز کے ساتھ جو کسی بھی اثاثہ جات کی رجسٹری، انونٹری، اور ایکسچینج، بشمول فائنانس کے تمام شعبہ جات، معاشیات، زر، ٹھوس اثاثہ جات، جیسے جائیدار اور محسوس نہ ہونے والے اثاثہ جات جیسے ووٹ، خیالات، نیت، صحت کے اعداد و شمار، کے بارے میں معلومات وغیرہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے حکومتی ادارے، بینک اور پرائیویٹ کمپنیاں بلاک چین نظام کو سمجھنے اور عمل میں لانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔ جناب محمد عمران جلیل صاحب بخوبی طور پر اس نظام کو پاکستانی اقتصادی ماہرین سے متعارف کروانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروکار لائے ہیں۔ اس قلم کار نے عمران صاحب کی کاوش کو آپ تک پہنچانے کی ناچیز کوشش کی ہے کیونکہ مستقبل قریب میں دنیا کی بیشتر اقتصادی ٹرانزیکشینز اور لین دین اب اس ٹیکنالوجی پر منتقل ہونے والی ہے۔ اگر ہماری حکومت اور دیگر ریاستی ادارے چین پاکستان اقتصادری راہداری منصوبے سے ہونے والے عالمی اقتصادی روابط سے مستفید ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں اس ڈیجیٹل دور میں دیگر ہم عصر ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم سے قدم ملا کر چلنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں