کشن ٹاسک فورس، پاکستان اور سی پیک

تحریر: سید علی عمران

بین الاقوامی منی لانڈرنگ، رقم کے غیر قانونی استعمال اور دیگر مالیاتی امور پر نظر رکھنے والی ’فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس‘ نے پاکستان کا نام تین ماہ کی مہلت دیتے ہوئے دہشت گردی کی مالی مدد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ پاکستان کا نام اس گرے لسٹ میں شامل کرنا دراصل امریکہ کی اس سازش کا حصہ ہے جس کے مطابق بھارت کو افغانستان اور ایران کے ذریعے اس خطے میں چین کے مقابلے میں اقتصادی طور پر ایک اہم مقام دینا ہے تاکہ سلک روٹ اور خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے پاکستان اور چین کے اس خطے میں بڑھتے عالمی اقتصادی تعلقات کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اب یہ ذمہ داری پاکستان سمیت چین پر بھی عائد ہوتی ہے کہ پاکستان کے مخدوش اقتصادی حالات کا تدارک کیا جائے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ٹرانزیکشنز کو بینکوں پر امریکی کنٹرول کے بغیر ممکن کیا جاسکے۔ اس حوالے سے چین نے بھی عندیہ دیا ہے کہ نومبر میں پاکستان کے لیے ایک اہم تجارتی پیکج کا اعلان کیا جائے گا تاکہ چین کے ساتھ تجارتی خسارے میں کمی آ سکے۔ دوسری طرف پاکستان کے بگڑتے معاشی حالات پر عالمی بینک نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مشورہ دیا ہے کہ خراب ہوتے اقتصادی اشاریوں کو درست کرنے کے لیے طویل مدتی پالیسیاں اپنانے کے ساتھ ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی کمی کا رجحان ناگزیر ہے۔ایک طرف جہاں تجارتی خسارہ عروج پر ہے تو پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں بھی گزشتہ 7ماہ کے دوران 2.9 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ غیرملکی قرضوں اور واجبات میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 5.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، گردشی قرضوں کا حجم بھی 4 کھرب 72 ارب 67 کروڑ 80 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے اور ملک میں سرکاری اداروں کے خسارے میں بھی مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی تنظیم ’فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس‘ کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردوں کے مالی معاون ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ اس حوالے سے بھارتی میڈیا اور عالمی نیوز ایجنسی رائٹر کی خبریں غلط ثابت ہوگئیں۔ مغربی خبر رساں ادارے رائٹر اور بھارتی میڈیا نے یہ خبر دی تھی کہ پاکستان کی جانب سے چین اور خلیجی ممالک کی حمایت کھو دینے کے بعد پاکستان کو باضابطہ طور پر ان ملکوں کی گرے لسٹ میں شامل کرلیا گیا ہے جو کسی نہ کسی طرح شدت پسند اور دہشت گرد عناصر کی مالی مدد کررہے ہیں تاہم یہ خبر مکمل طور پر غلط ثابت ہوئی۔ پاکستان کے خلاف یہ قرارداد امریکا نے پیش کی تھی اور اس کا موقف تھا کہ پاکستان کو دہشت گرد عناصر سے روابط منقطع کرنے پر دباو ¿ بڑھایا جائے تاکہ افغانستان اور امریکا میں مبینہ پاکستانی مداخلت کو روکا جاسکے۔ اس قدم سے پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری اور بینکنگ سیکٹر میں کئی مشکلات کا سامنا ہوسکتا تھا۔ پاکستان کو اس فہرست میں شامل کرنے کی جو کوشش کی گئی وہ پاکستان کے دوست ممالک یعنی چین، ترکی اور خلیج تعاون کونسل کے کچھ اراکین کی وجہ سے تین ماہ کی مہلت میں تبدیل ہو گئی۔ اس کے لیے پاکستان نے غیرمعمولی لابی بھی کی تھی۔ اس قرار داد میں برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے امریکی پابندیوں کی تائید کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان کو اب بھی واچ لسٹ میں رکھا گیا ہے لیکن اس سال جون سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ اس پر پاکستان نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام سیاسی ہے اور اس کے مستقبل کے تعاون پر غلط اثرات مرتب ہوں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان سال 2012 سے 2015 تک گرے لسٹ کا حصہ رہ چکا ہے۔

ایک طرف جہاں امریکہ اور بھارت، چین اور پاکستان کے خالف سازشوں میں مگن ہے تو دوسری طرف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاک چائنا فرینڈ شپ گروپ کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے وزارت خارجہ کی ڈی جی چائنا افیئر عائشہ احسن نے کہا کہ چین دنیا کی معاشی طاقت بن کر ابھر رہا ہے جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان کی معاشی شرح نمو میں2 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ قائمہ کمیٹی کے سربراہ مانڈ وی والا نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرتے ہوئے ان کو منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کرنا ضروری ہے جبکہ چین کو سی پیک پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔دوسری جانب چینی سفیر نے کہا کہ بین الاقوامی فورمز پر چین ہر معاملے پر پاکستان کیساتھ کھڑا ہے۔ چینی سرمایہ کار پاکستان آرہے ہیں جبکہ سی پیک میں بلوچستان کے نوجوانوں کو شامل کرنے کے لیے500 طلبا کیلیے اسکالر شپ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ چین بلوچستان کے اسکولوں کیلیے سولر پروگرام بھی شروع کر رہا ہے اور نومبر میں پاکستان کیلیے بڑے تجارتی پیکیج کا اعلان کریگا۔ واضح رہے کہ چین اور پاکستان کے مابین آزادانہ تجارتی معاہدے دوئم پر بات چیت جاری ہے۔

اپنے غلط معاشی اقدام کا بوجھ صرف سی پیک یا چین پر ڈال دینا حماقت ہو گی۔ اقتصادی معاملے کو جتنی جلدی ہو سکے نئی تجارتی پالیسی میں درست کرنا حکومت کا اہم ٹاسک ہونا چاہیے۔ حال ہی میں عالمی بینک نے پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کیلیے طویل المدت اصلاحات اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت پرزوردیا ہے۔ عالمی بینک کے کنٹری ہیڈ پیچاماتھو الانگونے پاکستان میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان 8 فیصد شرح نموکی خواہش رکھتا ہے جس کے حصول کے لیے درمیانی اور طویل المدت اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان کی معیشت کوچیلنجزدرپیش ہیں جن سے سیاسی مفاہمت کے ذریعے نمٹا جاسکتا ہے جبکہ آئندہ 10 سال پاکستان بلند شرح نمو کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے لیکن اس میں مزید کمی کی گنجائش موجودہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کوفی الوقت جن معاشی مسائل کاسامنا ہے وہ مختصرالمدت ہیں اور عالمی بینک اپریل میں اپنی رپورٹ جاری کرے گا جس میں نظرثانی شدہ معاشی اہداف پیش کیے جائیں گے۔

پاکستان کے غیرملکی قرضوں اور واجبات میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 5.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ غیرملکی قرضوں اور واجبات کی مجموعی مالیت دسمبر 2017 کے اختتام پر 88 ارب 89 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق غیرملکی قرضوں کے ساتھ حکومت کے مقامی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سال 2017 کے دوران مقامی قرضے ایک ہزار 348 ارب روپے بڑھ گئے اور دسمبر 2017 کے اختتام تک مقامی قرضوں کی مالیت 15ہزار 890 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس طرح سال 2017 کے دوران سرکاری اداروں کے قرضوں اور واجبات میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری طرف پاکستان میں گردشی قرضوں کا حجم بھی 4 کھرب 72 ارب 67 کروڑ 80 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ملک میں سرکاری اداروں کے خسارے میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے اور حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران سرکاری اداروں کو 60 ارب روپے کی نئی گارنٹیز جاری کی گئی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ستمبر 2017 کے اختتام تک حکومتی گارنٹیز 999 ارب روپے سے بڑھ چکی ہیں جبکہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سرکاری اداروں کو 60 ارب روپے کی نئی گارنٹیز جاری کی گئیں۔2017 کے دوران واپڈا پی ایچ پی ایل سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ پی آئی اے سوئی سدرن گیس کمپنی نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپچ کمپنی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو حکومت کی جانب سے بینکوں کو گارنٹیاں جاری کی گئی ہیں اور قرضہ لیا گیا۔ واضح رہے دسمبر 2017 کے اختتام پر سرکاری اداروں کے قرضے اور واجبات کی مالیت ایک ہزار 108 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

اپنے خلاف بڑھتی سازشوں اور مخدوش ہوتے اقتصادی حالات کا مقابلہ پاکستانی حکومت، اداروں اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کرنے کی ضرورت ہے نہیں تو دشمنوں کے ساتھ ساتھ دوستوں سے بھی ملک کو درپیش مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ پاکستان پر دباو بڑھانے میں اس لیے کامیاب ہو رہا ہے کیونکہ ہمارے ملک کو ہمارے اپنوں نے کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہر طرف کرپشن کا بازار گرم ہے جبکہ عدم برداشت میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاسی معاملات بگڑتے جا رہے ہیں اور ہر جگہ مجھے کیوں نکالا کی صدائیں بلند ہیں۔ چاہے وہ مسلم لیگ ن ہو یا پی ٹی آئی، پی پی پی یا ایم کیو ایم سب اپنا الو سیدھا کرنے میں لگے ہیں جبکہ ملک کا کوئی نہیں سوچ رہا۔ اب تو بیوروکریسی بھی دھمکیاں دینے پر تلی ہوئی ہے۔ ایسے میں اپنے کیا تو پرائے کیا، موقع سے کوئی بھی ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ملک میں انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے تاکہ ملک میں کرپشن اور عدالتوں پر عدم اعتماد میں کمی آسکے۔ اس مقصد کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو مجھے کیوں نکالا کے خودغرض شور کی بجائے ہم مانتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں کی صدائیں گونجنی چاہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں