اقوام متحدہ نے شام میں بمباری کو جنگی جرم قرار دےدیا،عالمی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان

جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ نے شام کے شہر غوطہ میں بشار الاسد حکومت کی بمباری کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے عالمی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کردیا۔

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے کہا کہ شام کے شہر غوطہ میں بشار الاسد حکومت کی بمباری جنگی جرائم ہے جس پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زید رعد الحسین نے کہا کہ ان جرائم کا ارتکاب کرنے والے ملزمان سن لیں کہ ان کی شناخت کی جارہی ہے اور مستقبل میں ان پر مقدمہ چلانے کے لیے دستاویزات تیار کی جارہی ہیں، جنگی بندی کی قرارداد پر اتفاق رائے کے باوجود مشرقی غوطہ میں عام شہریوں پر مسلسل بمباری اور گولہ باری کی جارہی ہے، ہم ساری صورت حال کا مشاہدہ کررہے ہیں جو نہ صرف جنگی جرائم بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہے، شہریوں کو سرنڈر کرنے یا موت میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں سے غوطہ میں جاری شامی اور روسی افواج کی بمباری میں 650 سے زائد شہری جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ ماہ شام میں ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کی قراداد بھی منظور کی تھی لیکن شامی اور روسی حکومتوں نے اقوام متحدہ کی دھجیاں اڑا دیں اور قرارداد منظور ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ بمباری کی گئی جس کا سلسلہ وقفے وقفے سے مسلسل جاری ہے۔

غوطہ میں ہزاروں شہری بیمار اور زخمی ہیں جو طبی امداد کے منتظر ہیں لیکن شامی حکومت کی مسلسل بمباری کی وجہ سے امدادی تنظیموں کے لیے شہر میں داخل ہونا ناممکن ہوگیا ہے۔ 100 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جنہیں ترجیحی بنیاد پر علاقے سے انخلا اور فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ شامی فوج نے غوطہ میں پمفلٹ بھی گرائے ہیں جن میں شہریوں کو سرنڈر کرنے یا موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں شامی فوج نے مشرقی غوطہ پر قبضے کے لیے مزید پیش قدمی کی ہے۔ بشارالاسد فورسز نے شدید بمباری کے بعد دو دیہات میں باغیوں کو شکست دے کر قبضہ مکمل کر لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں