ایک وزیر اعلی اور 370 بااختیار اایماندار آفیسرز

نعیم بخش تارڑ
اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ تحصیل کینٹ لاہور

آج تک اس ملک پاکستان کا نظام مال بناواور دن ٹپاو کی پالیسی پر مسلسل گامزن ہے۔ انصاف کا ڈھول پیٹنے والے اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والے بہت آئے اور اس ملک کی جٹریں پہلے سے بھی کمزور کر کے چلتے بنے۔ عام آدمی کی زندگی میں نہ انصاف آیا اورنہ کوئی تبدیلی کی امید پیدا ہوئی، کیونکہ مسنداقتدار پر بیٹھنے والوں کیلیےیہ کرپشن سے بھرپور نااہل نظام سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ کمزور ادارے اور ذاتی مفاد کو سمیٹنے والے سرکاری افسران نے اس ملک کی غریب عوام کا خون نچوڑنے میں کھل کر ظلم کے اس نظام کا ساتھ دیا ہے۔ ایک اعلی حکومتی عہدادارسے یہ بات سن کر ہوش اڑگے کہ اکر اس ملک میں ہم نےایماندار اور کرپشن سے پاک افسران تعینات کردے تو یہ نظام مفلوج ہوجائے گا، پھر آپ خود سوچ لیں کہ ملک کی اس عوام کے ساتھ کیسا گھناونا کھیل خوشنماپردوں کے پیچھے کھیلا جا رہا ہے۔
اگر تو عمران خان اس نظام کو بدلنا چاہتا ہے تو 100 دن تو دور 30 دن میں اس ملک کا نظام بدلا جا سکتا ہے۔ اس کیلیے نہ تو طوفانی دوروں کی ضرورت ہے اور نہ ہی میڈیا کو دکھانے کیلیے کیسی ضلع کے سربراہ کوOSD بنانا ضروری ہے۔ اگر ہم پنجاب سے شروع کریں تو ایک نیک نیت وزیر اعلی اور 370 بااختیار ایماندار آفیسرز درکار ہیں۔ جوکہ 30 دن کے اندر پورے پنجاب کی کایا پلٹ سکتے ہیں اور عوام کا عتماد اداروں پر بحال کر سکتے ہیں۔
عمران خان صاحب اگر واقعی ظلم کا نظام بدلنا ہےتو کہ ایک ایماندار چیف سیکرٹری لگاو جو بااختیار ہو۔ وہ اپنے نیچے9 ایسے ڈویڑنلز کمشنر لگائے جنہوں نے آج تک ایک روپیہ کی کرپشن بھی نہ کی ہو اور رحم دل بھی ہوں اور 36 ضلعوں میں 36 بااختیار ایماندار ڈپٹی کمشنرز ، پنجاب کی 143 تحصیلوں میں بااختیار ایماندار اسسٹنٹ کمشنرز لگادیں جن کے دروازےپر نہ تو کوئی چوکیدار بیٹھا ہو اور نہ ہی عوام کو ان سے ملنے میں کوئی مشکل در پیش ہو۔ ڈپٹی کمشنر ضلع میں ہر ادارے کا سربراہ خود لگانے میں بااختیار ہو وہ اپنی طرح ایسے ہی محنتی اور ایماندار ضلعی سربراہ چنے تو ایک ضلع میں اوپر سے نیچے تک سارا نظام تبدیل ہوجائےگا۔
اسی طرح پولیس میں ایک بااختیار ایماندار آئی جی اگر اپنے نیچے DIG اور 36 DPOs اور 143 SDPOs ایسے منتخب کرے جنہوں نے نہ تو آج تک کرپشن کی ہو اور نہ ہی ظالم حکمرانوں کا ساتھ دیا ہو اور DPOs ہر تھانے میں ایک فرض شناش اور ایماندار SHO تعینات کرنے میں کلی طور پر بااختیار ہو تو ایسا پولیس کا نظام قائم ہو جس میں MNA اور MPA کا کردار کل طور پر ختم ہو جائےتو رزلٹ چند دن میں حیران کن ہوں گے اور مزید اگر پولیس ملازمین کے ڈیوٹی ٹایم ، ہفتہ وار چھٹی، رہائش اور سہولیات آرمی طرز پر کر دی جائیں تو نتیجہ یکسر بدل سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی واقعی ہی نظام بدلنا چاہتا ہے؟ یا اس موجودہ نظام کو جاری رکھتے ہوئے اس ملک کی غریب عوام کا استحصال جاری رکھنا چاہتا ہے۔اور اپنے ذاتی بنک بیلنس میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ عمران خان صاحب اگر آپ واقعی ہی نظام بدلنا چاہتے ہیں تو ایماندار افسروں کی لسٹ بناو جو کہ Intelligence کی رپورٹ ،اس ادارے کے ملازمین اور عوام کی رائے پر مبنی ہو ، اور اگر آپ ملک کے تمام اداروں میں ایسے ایماندار بااختیار سربراہ لگانے میں کامیاب ہوگئےتو پھر بے شک آپ اسلام آباد سے نکل کر بنی گالا کی پہاڑیوں پر صبح و شام واک کرنا یا گلف کھیلنا یہ ملک ترقی کی راہ پر اتنا تیری سے دوڑے گا کہ دنیا رشک کی نگاہ سے دیکھے گی۔ اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں