ڈنمارک میں برقع اور نقاب پر پابندی کے خلاف ماڈلز بھی میدان میں آگئیں

کوپن ہیگن:(نیٹ نیوز/میڈیا92نیوز) ڈنمارک میں ماڈلز نے بھی برقع اور نقاب کے خلاف آواز بلند کرلی
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں منعقدہ دو روزہ فیشن ویک میں خواتین کے برقع اور نقاب پر لگائی جانے والی پابندی کے خلاف منفرد انداز میں احتجاج کیا گیا۔
حال ہی میں کوپن ہیگن فیشن ویک کا میلہ سجایا گیا جس میں اسٹریٹ اسٹائل سمیت دیگر منفرد اسٹائلز پیش کیے گئے۔

دی انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق فیشن ویک کے دوران متعدد ڈیزائنرز نے اپنی اپنی کلیکشنز کی تشہیر کی لیکن ایک ایرانی ڈیزائنر ریزا اعتمادی نے اپنی برانڈ ‘ایم یو ایف 10’ کے تحت تمام ماڈلز کو برقعے اور نقاب میں پیش کیا، جنہوں نے نہایت اعتماد کے ساتھ ریمپ پر واک کی۔
ماڈلز نے حجاب، برقعے اور نقاب میں ریمپ واک کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے آواز بلند کی۔
ڈیزائنر ریزا اعتمادی کا کہنا تھا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کی آزادی اور ان کے خیالات میں معاونت کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکام نے خواتین کے پردہ کرنے پر پابندی لگا کر ان کے حقوق پر ڈاکا ڈالا ہے جب کہ مغربی دنیا میں آزادانہ پسند پر فخر کیاجاتا ہے۔
ان کی کلیکشن میں جہاں خواتین ماڈلز نے برقعے، حجاب اور نقاب میں ریمپ واک کی وہیں مرد ماڈلز کو پولیس اہلکاروں کی وردی میں پیش کرکے خواتین کے حقوق پر مسلط ہوتا دکھایا گیا۔
ڈنمارک میں عوامی مقامات پر نقاب پر پابندی عائد
اسی دوران کچھ خواتین ماڈلز پولیس کی وردی زیب تن کیے ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں جن کو برقعے والی خواتین کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
واضح رہے کہ رواں برس مئی میں ڈنمارک میں مسلم خواتین کے نقاب اور برقع پہننے پر پابندی کا قانون نافذ کیا گیا تھا۔
اس سلسلے میں رواں ماہ کے آغاز میں ایک مسلم خاتون پر عوامی مقام پر نقاب لگا کر جانے پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں