محکمہ ریونیو کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لاہور آفس نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ پر 6سال گذر جانے کے بعد بھی عمل نہ کیا سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت بھی نظر انداز کر دی گئی

لاہور(اپنے نمائندے سے)محکمہ ریونیو کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لاہور آفس نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ پر 6سال گذر جانے کے بعد بھی عمل نہ کیا سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت بھی نظر انداز کر دی گئی صوبائی دارالحکومت کی حدود میں آنیوالے 131پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیم کے با اثر مالکان نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر جاری کردہ ایل ڈی اے کا مراسلہ ردی کی ٹوکری میں پھینکوا دیا ۔میڈیا92نے ایل ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ تحریری مراسلہ حاصل کر لیا۔ میڈیا92کے نمائندے کو ملنے والی معلومات کے مطابق 31-7-12کو ایل ڈی اے کی جانب سے سابقہ اے ڈی سی آر نادر چٹھہ کو تحریری مراسلہ جاری کیا جس پر سپریم کورٹ کی واضح ہدایت اور حکم کا حوالہ بھی دیا گیا جبکہ 131ایسی پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیموں کی لسٹ بھی ساتھ دی گئی جو کہ اختیارات کا ناجائز استعمال، جعلسازی، دھوکہ دہی ، فراڈ اور محکمہ مال کے پٹواریوں کی معاونت کے باعث ایل ڈی اے میں رہن رکھے گئے ٹاﺅن پلاٹوں کی فروخت کرنے میں مصروف تھے بلکہ قبرستان، سکول، پارکس، راستہ جات سمیت رفاعی عامہ کیلئے مختص کی جانے والی اراضی کو غیر قانونی طورسے فروخت کرتے چلے آ رہے تھے جبکہ اسی ضمن میں 131 ہاﺅسنگ سکیموں کے مالکان کو باقاعدہ نوٹسز بھی جاری کئے گئے اور اے ڈی سی آر نادر چٹھہ کو رولز 48کے تحت تمام رہن شدہ اراضی کا انتقال محکمہ ریونیو کے ریکارڈ میں اندراج کرتے ہوئے رفاعی عامہ کے لئے مختص کی جانے والی زمین کی فرد برائے ملکیت اور انتقال کی بابت منتقلی کے عمل سے بھی منع کر دیا تاہم معلوم ہوا کہ سابق اے ڈی سی آر نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے جاری کردہ مراسلہ 4436جاری کردہ CMP-PMP مورخہ 31-7-12کو ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا ہے مبینہ اطلاعات کے مطابق ان 131ہاﺅسنگ سکیم مالکان سے اس خصوصی رعایت کے عوض منہ مانگا معاوضہ بھی وصول کیا گیا اور 6 سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی ایل ڈی اے اور سپریم کورٹ کی جانب سے دیئے جانے والے حکم پر عمل درآمد نہ کیا جاسکا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اے ڈی سی آر لاہور کس اس مبینہ غفلت کے باعث سرکاری خزانے کو رجسٹری فیس کی مد میں جہاں کروڑوں کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا بلکہ سادہ لوح کی کثیر تعداد بھی راستہ جات، رہن شدہ پلاٹس، قبرستان پارکس، سکول جیسی متنازعہ جائیداد کو خریدنے کے باعث اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی داﺅ پر لگا بیٹھے ہیں اور اسی غفلت کے باعث سینکڑوں متاثرین عدالتوں میں انصاف کے حصول کے لئے دربدر ہو رہے ہیں ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ قومی احتساب بیورو پنجاب نے بھی ان ہاﺅسنگ سکیموں میں ہونے والے فراڈ اور جعلسازی کی بابت تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر رکھا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے بیورو کریٹس کے خلاف بھی نیب کو ہاتھ ڈالنا چاہئے جو کہ ذاتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی خزانے کیساتھ عوام الناس کے لئے بھی نقصان کا موجب ثابت ہوئے ہیں۔ شہریوں کی کثیر تعداد نے چیئرمین نیب ، ڈپٹی کمشنر اور ڈی جی ایل ڈی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں